اک غزل – کسی غمزدہ سے یوں حالِ دل میاں ایک دم نہیں پوچھتے

کسی غمزدہ سے یوں حالِ دل میاں ایک دم نہیں پوچھتے

کسی غمزدہ سے یوں حالِ دل میاں ایک دم نہیں پوچھتے کہ جو قہقہوں میں دبا ہوا ہو وہ ضبطِ غم نہیں پوچھتے دمِ گفتگو نہیں پوچھتے پسِ گفتگو کے ملال کو کبھی مل بھی لیں وہ تپاک سے تو بھی اُن سے ہم نہیں پوچھتے مری سُرخیوں بھری آنکھ پر مرے رتجگوں پہ سوال … Read more

اک غزل – سورج کے تقابل میں رنگا رنگ جلوں ہوں

اک غزل - سورج کے تقابل میں رنگا رنگ جلوں ہوں

سورج کے تقابل میں رنگا رنگ جلوں ہوں تلوؤں میں اندھیرے کو لئے مست چلوں ہوں یوں کر کے رگِ جاں کو جدا خود سے بصد ناز اپنا ہی لہو اپنی ہی صورت پہ ملوں ہوں تجسیم کروں ہوں جو میں تجھ آنچ پہ اپنی توڑ اپنے بدن کو ترے سانچوں میں ڈھلوں ہوں قائم … Read more

اک دل دکھانے والے کے نام نظم – عشقِ آبگیں

اک دل دکھانے والے کے نام نظم - عشقِ آبگیں

ہم ملیں گے پھر کبھی اُن بارشوں کے موسم میں جب آسمانی رقص میں طائر لہو برسائیں گے ہم ملیں گے پھر کہیں اُن وادیوں کے دشت میں جہاں ویران زندانوں کے مرے باسی لوٹ آئیں گے ہم ملیں گے پھر کہیں اُطلسی زمینوں پر شب کے س پچھلے پہر کہ جب سانسوں کا ہر … Read more

اک سکارپیو کے نام نظم ۔ بے سکونی

اک سکارپیو کے نام نظم ۔ بے سکونی

دوستا ان دنوں میں بڑی بے سکونی میں ہوں بے سکونی کا مت پوچھ کیا ہے بلا ہے بے سکونی کا چہرہ کبھی جاگتی آنکھوں میں دیکھنا بے سکونی کا چہرہ کبھی ایسے افراد میں دیکھنا جن کو چپ لگ گئی جو سکوں کی عدم دستیابی کے دکھ میں نشئی بن گئے روٹی سے روٹھ … Read more

اک نظم – کوئی تو یہ کہے کیا حال ھے سعد تمہارا

اک نظم - کوئی تو یہ کہے کیا حال ھے سعد تمہارا

کوئی تو یہ کہے کیا حال ھے سعد تمہارا کیسے گزر رھا ھے مار دینے والا ہجر سگریٹ اتنی کیوں پیتے ھو؟ رات گئے ٹھنڈی سڑکوں پہ مثلِ آوارہ گھوم کر گھر جاؤ کوئی انتظار کر رھا ھوگا تمہارا سنو اے میرے محبوب اب بھی وقت ھے لوٹ آو اگر زرا سی دیر ھو گئ … Read more

اک عجیب نظم – زندگی اے زندگی

اک عجیب نظم - زندگی اے زندگی

خرقہ پوش و پا بہ گِل میں کھڑا ہوں تیرے در پر زندگی ملتجی و مضمحل خرقہ پوش و پابہ گل اے جہانِ خار و خس کی روشنی زندگی ، اے زندگی میں ترے در پر چمکتی چلمنوں کی اوٹ سے سن رہا ہوں قہقہوں کے دھیمے دھیمے زمزمے کھنکھناتی پیالیوں کے شور میں ڈوبے … Read more

غزل – عجیب لوگ تھے تتلیاں بناتے تھے

ہمارے گاوں میں دو چار ہندو درزی تھے نمازیوں کے لیے ٹوپیاں بناتے تھے

عجیب لوگ تھے وہ تتلیاں بناتے تھے سمندروں کے لیے سپیاں بناتے تھے وہی بناتے تھے لوہے کو توڑ کر تالہ پھر اس کے بعد وہی چابیاں بناتے تھے میرے قبیلے میں تعلیم کا رواج نہ تھا میرے بزرگ مگر تختیاں بناتے تھے فضول وقت میں وہ سارے شیشہ گر مل کر سہاگنوں کے لیے … Read more

نظم _ جب آؤ گی تو لے جانا

نظم جب آؤ گی تو لے جانا ۔

جب آؤ گی تو لے جانا یہ سب کچھ جو بھول گئی تھی تم یا جان بوجھ کے چھوڑا تھا تم نے اپنی جاں سے بھی زیادہ سمبھال رکھا ہے میں نے پر وہ سوکھے ھوے گلابوں کا گل دستہ تمہاری لپسٹک کے نشان والا وہ پیپر کپ وہ ٹشو جس پر I love you … Read more

میرے بہت عجیب خواب ہیں _ نظم

میرے بہت عجیب خواب ہیں نظم

دوزخ کی دیوار پہ بیٹھ کے نُصرت سُنوں بہشتیوں کو ترستے ہوئے دیکھوں دیکھوں سخت سردی میں فرشی پنکھا چلا کے آسمان کی طرف کر دوں بروزِ محشر مُجھے کالج کے رولنمبر سے پُکارا جائے دومنٹ تک سانس روک کے رکھوں پھر اچانک سانس لے کر فرشتے کو “بےبسی” کا مطلب سمجھاؤں فوتگی پہ جا … Read more

تمہاری عدم موجودگی _ نظم

تمہاری عدم موجودگی سے یہ زمانہ یونہی خانہ جنگی میں مبتلا رہے گا زمانے نے ہم کو جدا کیا اب جب تک ہمیں واپس نہیں ملا دیتے یہ یونہی راہ روی کا شکار رہینگے تمہاری عدم موجودگی سے سمندروں پر رعب بنے گا وہ یونہی کھارے رہینگے تمہاری عدم موجودگی سے سعدیہ یہ دیوتا یونہی … Read more