ایک بہت ہی خوبصورت نظم دلجُو رقیبہ

اے مخلص ، اے ہم دم اے گُم سُم ، اے کم سن

اے نُوری ، اے ناری ، اے آبی ، اے خاکی

اے جگنو کی تتلی ، اے لمحے کی آہٹ

اے خوشبو کی رنگت ، اے آنچل کا لہجہ

اے بارش کی رِم جِھم ، اے پھولوں کی ڈالی

اے سنگدل حسینہ ، اے دل جُو رقیبہ

ذرا اپنے خستہ سے دامن میں بھر کے

مجھے بھیج دینا یہ برکھا یہ ریکھا

یہ پھولوں کی ڈالی ، یہ پیپل کے پتے

یہ مہندی کی خوشبو یہ جھرنوں کا پانی

تمہاری یہ آنکھیں مع خواب سارے

ختم میری بستی کی خموشی کرنے

لفافے میں اپنی ہنسی بھیج دینا

اگر میری خاطر کوئ شے جو بھیجو

گلِ لالہ کی اِک کلی بھیج دینا !

شاعرہ آیت فاطمہ

Leave a Comment